ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ریاستی خبریں / مالیگاؤں2008:دس سال گذر جانے کے بعد بھی متاثرین انصاف کے انتظارمیں،بھگواء ملزمین مقدمہ کا سامنا کرنے سے کترا رہے ہیں

مالیگاؤں2008:دس سال گذر جانے کے بعد بھی متاثرین انصاف کے انتظارمیں،بھگواء ملزمین مقدمہ کا سامنا کرنے سے کترا رہے ہیں

Sat, 29 Sep 2018 16:11:53    S.O. News Service

استغاثہ بھی عدالت کو مطمین کرنے میں ناکام، ایڈوکیٹ شاہد ندیم

ممبئی،29؍ ستمبر (پریس ریلیز؍ایس او نیوز) آج ہی کے دن دس سال قبل بھگواء ملزمین کرنل پروہیت، سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر، میجر رمیشن اپادھیائے ویگر ملزمین نے گنجان مسلم آبادی والے صنعتی شہر مالیگاوں میں بم دھماکہ کیا تھا جسے آج دس سال کا طویل عرصہ گذرچکا ہے اور اب تک اس معاملے میں باقاعدہ مقدمہ کی سماعت شروع نہیں ہوسکی جس کی وجہ سے متاثرین اور انصاف پسند طبقہ مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں۔

بم دھماکہ متاثرین کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیۃ علماء مہاراشٹرقانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی کی نگرانی میں کام کرنے والی وکلاء کی ٹیم کے رکن شاہد دندیم نے کہا کہ مرکز اور ریاست میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد سے ہی مالیگاؤں ۲۰۰۸ ء بم دھماکہ معاملے کے ملزمین کو راحتیں حاصل ہونا شروع ہوگئیں تھیں جو اس بات کی جانب اشارہ کرتی ہیں کہ ایک منصوبہ بند ایجنڈے کے تحت دھماکہ معاملے کی تفتیش این آئی اے سے کرائی گئی تاکہ بھگواء ملزمین کو راحت حاصل ہوسکے۔ 

یڈوکیٹ شاہد ندیم نے کہا کہ حالانکہ عدالت نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کی روشنی میں ملزمین پر سے مکوکا قانون ہٹا دیا ہے لیکن یہ اطمنان بخش ہیکہ ملزمین پر یو اے پی اے قانون کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا جو مکوکا قانون سے کسی بھی طرح سے کم نہیں ہے بشرط کہ استغاثہ ایمانداری سے اپنی ذمہ داری نبھائے اورسرکاری گواہان کو تحفظ فراہم کرکے عدالت میں ان کی گواہی کو ان کے ذریعہ دیئے گئے بیانات کے مطابق درج کرانے میں کامیاب ہوجائے۔لیکن اب بھگواء ملزمین نے ایک نیا ہتھکنڈا اپناتے ہوئے سپریم کورٹ سے پھر رجوع کیا تھا کہ ان پر یو اے پی اے قانون کا اطلاق بھی نہیں ہوتا جس کے جواب میں سپریم کورٹ نے انہیں یہ معاملہ نچلی عدالت میں اٹھانے کا مشوری دیا جس کے بعد سے ملزمین یو اے پی اے کے اطلاق کو چیلنج کرتے ہوئے نچلی عدالت میں بحث کررہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ بھگواء ملزمین کی یہ منشاء ہے کہ وہ مقدمہ سے ڈسچارج ہوجائیں تاکہ انہیں مزید عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا نا پڑے جس کے لیئے وہ روز نت نئے ہتھکنڈے اپناتے ہیں ، کبھی ڈسچارج داخل کرتے ہیں تو کبھی کسی اور مدعہ اٹھا کر نچلی عدالت کو چارج فریم کرنے روک دیتے ہیں اور ان سب کا قومی تفتتیشی ایجنسی اس شدت سے جواب نہیں پارہی ہے جس طر سے اسے دینا چاہئے ، جہاں تک رہی بات مداخلت کار کی تو بھگواء ملزمین نے جمعیۃ علماء کے وکلاء کو اس معاملے میں مداخلت کرنے پرسخت اعتراض کیا ہے جس کے بعد سے عدالت نے مداخلت کار کی عرضداشت التواء میں رکھی ہوئی ہے جس پر جلد بحث ممکن ہے۔دلچسپ بات یہ ہیکہ قومی تفتیشی ایجنسی NIAنے بھی متاثرین کو اس معاملے میں کچھ بھی بولنے پر اعتراض کیا ہے اور مداخلت کار کی عرضداشت مسترد کیئے جانے کی عدالت سے گذارش کی ہے۔ 

شاہد ندیم نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ نے مقدمہ کی روز بہ روز سماعت کیئے جانے کے احکامات جاری کیئے تھے لیکن تفتیشی ایجنسیوں کی خامیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھگواء ملزمین نے عدالت عظمی سے راحتیں حاصل کی ہیں جس میں مکوکا قانون کا ان پر سے ہٹائے جانا اہم ہے جبکہ انہیں ضمانت عرضداشتیں بھی استغاثہ کی مبینہ ناقص کارکردگی کی وجہ سے حاصل ہوئی ۔

واضح رہے کہ ۲۹؍ ستمبر ۲۰۰۸ء کو ہونے والے اس سلسلہ واربم دھماکہ معاملے میں ۶؍ مسلم نوجوان شہید جبکہ سیکڑوں زخمی ہوئے تھے ، مقدمہ کی ابتدائی تفتیش انسداد دہشت گرد دستہ (اے ٹی ایس) نے آنجہانی ہیمنت کرکرے کی سربراہی میں کی تھی اور پہلی بار بھگواء دہشت گردی پر پڑے پردے کو بے نقاب کیا تھا لیکن مرکز میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت بننے کے بعد سے اس معاملے کی بلا وجہ تازہ تحقیقات کرنے والی قومی تفتیشی ایجنسی NIA نے بھگواء ملزمین کو فائدہ پہنچانے کا کام شروع کردیا اور اضافی فرد جرم داخل کرتے ہوئے سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر سمیت دیگر بھگواء ملزمین کو راحت پہنچائی تھی ۔


Share: